نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نَا أَبُو مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ لا يَمُصُّ ، فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ ، قَالَ : حَتَّى وَجَدْتُ طَعْمَ لَبَنِهَا فِي حَلْقِي ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، فَأَتَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تُفْتِي مَا هَذَا بِكَذَا وَكَذَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا رَضَاعَ إِلا مَا شَدَّ الْعَظْمَ ، وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ " .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی سفر کر رہی تھی، اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا، تو اس عورت کے شوہر نے اس عورت کے دودھ کو چوسنا شروع کیا، یہاں تک کہ اسے اس دودھ کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس ہوا، وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”آپ نے یہ فتویٰ دیا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’رضاعت وہی ہوتی ہے، جو ہڈی کو مضبوط کرتی ہے اور گوشت کو پیدا کرتی ہے۔‘“