نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا أَبِي ، نَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتَبَسَ لَبَنُهَا فَخَشِيَ عَلَيْهَا فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِهِ ، فَسَأَلَ أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : حُرِّمَتْ عَلَيْكَ ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ ، إِلا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ ، وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ " .ابوموسیٰ ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر کر رہا تھا، اس کی بیوی نے ایک بچے کو جنم دیا، لیکن اس عورت کا دودھ جاری نہیں ہوا۔ اس شخص کو اس عورت کی طرف سے اندیشہ ہوا، تو اس نے اس عورت کی چھاتی کو چوسنا شروع کیا، جس کی وجہ سے دودھ اس کے حلق تک پہنچ گیا، اس نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ عورت تم پر حرام ہو گئی ہے۔“ پھر وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وہی رضاعت حرمت کو ثابت کرتی ہے، جو گوشت پیدا کرے اور ہڈیوں کی نشوونما کا باعث بنے (یعنی جو کم عمری میں ہو)۔“