نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا ، فَقَالَ لِلْيَهُودِ : " مَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تُقِيمُوا عَلَيْهِمَا الْحَدَّ ؟ ، فَقَالُوا : كُنَّا نَفْعَلُ إِذْ كَانَ ذَلِكَ فِينَا فَلَمَّا ذَهَبَ مُلْكُنَا فَلا نَجْتَرِئُ عَلَى الْفِعْلِ ، فَقَالَ لَهُمُ : ائْتُونِي بِأَعْلَمَ رَجُلٍ فِيكُمْ ، فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا ، فَقَالَ لَهُمَا : أَنْتُمْ أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا ، قَالا : يَقُولُونَ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أنزل التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى كَيْفَ تَجِدُونَ حَدَّهُمَا فِي التَّوْرَاةِ ؟ ، فَقَالا : الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ ، وَالرَّجُلُ عَلَى بَطْنِ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ ، فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُدْخِلُهُ فِيهَا كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَ ، قَالَ : ائْتُونِي بِالشُّهُودِ ، فَشَهِدَ أَرْبَعَةٌ فَرَجَمَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، تَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: ”تم لوگوں نے ان دونوں پر حد جاری کیوں نہیں کی؟“ یہودیوں نے کہا: ”ایسا ہم اس وقت کرتے کہ جب یہ ہماری ملکیت میں ہوتے، لیکن جب ہماری ملکیت ختم ہو گئی، تو اب یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے سب سے بڑے دو عالموں کو میرے پاس لے کر آؤ۔“ تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ”صوریا“ کے دو بیٹوں کو لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”باقی سب لوگوں کے مقابلے میں تم زیادہ بڑے عالم ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”لوگ یہی کہتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس نے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل کی تھی، تم نے ان دونوں (مجرموں) کی سزا تورات میں کیا پائی ہے؟“ تو ان دونوں نے کہا: ”جو شخص کسی عورت کے ساتھ ہوتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، جو شخص کسی عورت کے پیٹ پر نظر آتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، لیکن جب چار آدمی یہ گواہی دے دیں گے کہ انہوں نے اس شخص کو اس عورت کے اندر اپنی شرمگاہ کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی کے اندر سلائی کو داخل کیا جاتا ہے (تو ان کو سنگسار کیا جائے گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہوں کو لے کر آؤ!“ پھر چار آدمیوں نے گواہی دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سنگسار کروا دیا۔