نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْوَشَّاءُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ ، نَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ ، وَعَدِيُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ ، فَخَرَجَ مَعَهُمَا فَتًى مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ ، قَالُوا : اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ ، فَجَاءَ رَجُلانِ مِنْ وَرَثَةِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لِمَنِ الظَّالِمِينَ ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری اور عدی مکہ آیا جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کے ساتھ بنو سہم قبیلے کا ایک نوجوان جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہوا جہاں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا، اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور ان دونوں نے اس کا ترکہ اس کے گھر والوں تک پہنچا دیا، البتہ ان دونوں نے چاندی سے بنا ہوا ایک برتن رکھ لیا جس پر سونے کا کام ہوا تھا (جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے اللہ کے نام پر حلف لیا کہ ”ہم نے کسی چیز کو چھپایا نہیں ہے اور ہم ایسی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں۔“ پھر بعد میں وہ برتن مکہ میں مل گیا تو ان لوگوں نے بتایا: ہم نے تو یہ عدی اور تمیم سے خریدا ہے، تو اس سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کے ورثاء میں سے دو شخص آئے اور انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ برتن اس شخص کا ہے جو سہم قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور ان دونوں کی گواہی ان دوسرے دونوں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے (یعنی سچی ہے) اور اگر ہم کوئی زیادتی کریں تو ہمارا شمار ظالموں میں ہو، پھر ان لوگوں نے اس برتن کو حاصل کر لیا، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: (لشھادتنا احق من شھادتھما وما اعتدینا)۔