نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَتَى رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هِيَ لِي ، وَقَالَ الآخَرُ : هِيَ لِي حُزْتُهَا وَقَبَضْتُهَا ، فَقَالَ : فِيهَا الْيَمِينُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الأَرْضُ، فَلَمَّا تَفَوَّهَ لِيَحْلِفَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، قَالَ : فَمَنْ تَرَكَهَا فَلَهُ الْجَنَّةُ " ،.عدی بن عدی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ مقدمہ ایک زمین کے بارے میں تھا، ان میں سے ایک نے کہا: ”یہ میری زمین ہے“ اور دوسرے نے کہا: ”یہ میری ہے، میں نے اسے گھیرا ہوا ہے اور اپنے قبضے میں رکھا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں یہ فرمایا کہ ”جس شخص کے پاس زمین موجود ہے، وہ قسم اٹھائے گا۔“ جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس شخص نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی، تو جب یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اسے ترک کر دے گا، اسے جنت ملے گی۔“