حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، نَا أَبِي ، نَا غَيْلانُ بْنُ جَامِعٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : شَهِدَ رَجُلانِ مِنْ أَهْلِ دَقْوَقَاءَ نَصْرَانِيَّانِ عَلَى وَصِيَّةِ مُسْلِمٍ مَاتَ عِنْدَهُمْ فَارْتَابَ أَهْلُ الْوَصِيَّةِ ، فَأَتَوْا بِهِمَا أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ فَاسْتَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ : وَاللَّهِ مَا اشْتَرَيْنَا بِهِ ثَمَنًا وَلا كَتَمْتُمَا شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا لَمِنَ الآثِمِينَ ، قَالَ عَامِرٌ : قَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ لَقَضِيَّةٌ مَا قُضِيَ بِهَا مُنْذُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْيَوْمِ " .عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ”دقوقاء“ کے رہنے والے دو عیسائی لوگ ایک مسلمان کی وصیت کے گواہ بن گئے، اس مسلمان کا وصال ان لوگوں کے پاس ہوا تھا، جن لوگوں کے بارے میں وصیت کی گئی تھی، انہیں اس بارے میں شک ہوا، وہ ان دونوں کو لے کر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز کے بعد ان دونوں سے قسم لی کہ ”اللہ کی قسم! ہم نے اس کے عوض میں کوئی قیمت حاصل نہیں کی اور ہم نے اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی گواہی کو چھپایا نہیں ہے، اگر ہم ایسا کریں گے، تو ہم گناہگار ہوں گے۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ وہ فیصلہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آج سے پہلے ایسا فیصلہ نہیں ہوا۔“