نَا نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَبَّارُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ نَذَرَتْ نَحْرَ ابْنِهَا ، فَأَمَرَهَا بِالْكَفَّارَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : سُبْحَانَ اللَّهِ كَفَّارَةٌ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ قَدْ ذَكَرَ اللَّهُ الظِّهَارَ ، وَأَمَرَ بِالْكَفَّارَةِ " .قاسم بیان کرتے ہیں: ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئی، اس نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر دے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کفارہ دینے کا حکم دیا، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے: ”سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بارے میں کفارہ دیا جائے گا؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہاں! اللہ تعالیٰ نے ظہار کا ذکر کیا ہے اور اس میں بھی کفارے کا حکم دیا ہے (تو ظہار بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، لیکن اس میں کفارہ دیا جاتا ہے)۔“