حدیث نمبر: 4330
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةُ أَبِي ذَرٍّ عَلَى رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَصْوَاءِ حِينَ أُغِيرَ عَلَى لِقَاحِهِ ، حَتَّى أَنَاخَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ نَجَّانِيَ اللَّهُ عَلَيْهَا لآكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَبِئْسَمَا جَزَيْتِهَا لَيْسَ هَذَا نَذْرًا ، إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ کی اونٹنی کو لوٹ لیا گیا تھا، اس نے وہ اونٹنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کر بٹھائی، پھر اس خاتون نے عرض کی: ”میں نے یہ نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی پر سوار رہتے ہوئے مجھے نجات عطا کر دی، تو میں اس کا جگر اور اس کے کوہان کا گوشت ضرور کھاؤں گی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے بڑا برا بدلہ دیا ہے، یہ نذر نہیں ہوتی، نذر وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کیا گیا ہو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  النذور / حدیث: 4330
تخریج حدیث «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3273، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20149، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4330، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6847، 7095، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 4831، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 4162، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1410»