نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا عَبْثَرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " الأَيْمَانُ أَرْبَعَةٌ : يَمِينَانِ يُكَفَّرَانِ ، وَيَمِينَانِ لا يُكَفَّرَانِ ، فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ : وَاللَّهِ لا نَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَفْعَلُ ، وَالرَّجُلُ يَقُولُ : وَاللَّهِ لأَفْعَلُ ، فَلا يَفْعَلُ ، وَأَمَّا الْيَمِينَانِ اللَّذَانِ لا يُكَفَّرَانِ : فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ مَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ فَعَلَهُ ، وَالرَّجُلُ يَحْلِفُ لَقَدْ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَلَمْ يَفْعَلْهُ " .سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”قسمیں چار طرح کی ہوتی ہیں، ان میں سے دو قسم کی قسموں کا کفارہ دینا پڑتا ہے اور دو قسم کی قسموں کا کفارہ ادا نہیں کیا جاتا، ایک وہ شخص، جو یہ قسم اٹھاتا ہے: ’اللہ کی قسم! ہم ہرگز ایسا نہیں کریں گے‘ اور پھر وہ ایسا کر لیتا ہے، ایک وہ شخص، جو یہ کہتا ہے: ’اللہ کی قسم! میں ایسا کروں گا‘، پھر وہ ایسا نہیں کرتا، جہاں تک ان دو قسموں کا تعلق ہے، جن میں کفارہ نہیں دیا جاتا، تو وہ یہ ہیں کہ آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’میں نے ایسا نہیں کیا‘ اور حالانکہ اس نے ایسا کیا ہو یا آدمی یہ قسم اٹھائے کہ ’اس نے ایسا کیا ہے‘، لیکن اس نے ایسا نہ کیا ہو (تو اس کا کفارہ نہیں ہو گا)۔“