نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، نَا أَبِي ، نَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي إِسْرَائِيلَ ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ : مَا بَالُ هَذَا ؟ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَذَرَ أَنْ لا يَتَكَلَّمَ ، وَلا يَسْتَظِلَّ ، وَلا يَقْعُدَ وَأَنْ يَصُومَ ، فَقَالَ : مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ ، وَلْيَصُمْ " ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْكَفَّارَةِ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابواسرائیل نامی صاحب کے پاس سے گزرے، جو دھوپ میں کھڑے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ اس نے یہ نذر مانی ہے کہ یہ کلام نہیں کرے گا اور سائے میں نہیں آئے گا اور بیٹھے گا نہیں اور روزہ رکھے گا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے کہو کہ وہ بات چیت کرے، سائے میں بھی آ جائے، بیٹھ بھی جائے اور روزہ بھی رکھ لے۔“ (راوی کہتے ہیں:) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کفارہ دینے کی ہدایت نہیں کی۔