نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَزَالٍ أَبُو الْفَضْلِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ نَعْمِ بْنِ هَارُونَ ، نَا كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، نَا غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا فِيمَا لا يُطِيقُ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ هَدْيًا إِلَى الْكَعْبَةِ فِي أَمْرٍ لا يُرِيدُ فِيهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ صَدَقَةً فِي أَمْرِ لا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِي أَمْرٍ لا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَكَفَّارَةُ يَمِينٍ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ الْمَشْيَ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ فِي أَمْرِ يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَلْيَرْكَبْ وَلا يَمْشِ ، فَإِذَا أَتَى مَكَّةَ قَضَى نَذَرَهُ ، وَمَنْ جَعَلَ عَلَيْهِ نَذْرًا لِلَّهِ فِيمَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ ، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَفِ بِهِ مَا لَمْ يُجْهِدْهُ " ، غَالِبٌ ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی نافرمانی سے متعلق کسی چیز کی نذر مانے، تو اس کا کفارہ وہی ہو گا، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر کوئی ایسی نذر لازم کر لے، جسے وہ متعین نہ کرے، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص اپنے مال کو کسی اور مقصد کے لیے تحفے کے طور پر خانہ کعبہ بھیجے، اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے اور جو شخص کسی ایسے مقصد کے لیے اپنے مال کو غریبوں میں صدقہ کرے کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ بھی وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہوتا ہے اور جو شخص اپنے اوپر بیت اللہ تک پیدل چل کر جانا لازم کرے اور وہ کسی ایسی وجہ سے ہو کہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول نہ ہو، تو اس کا کفارہ وہی ہے، جو قسم توڑنے کا کفارہ ہے، جو شخص کسی ایسی چیز کے بارے میں بیت اللہ تک پیدل چل کر جانے کی نذر اپنے اوپر لازم کر لے کہ اس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو، تو وہ سوار ہو کر جائے، وہ پیدل ہو کر نہ جائے، جب وہ مکہ آ جائے گا، تو وہ اپنی نذر کو پورا کرے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام کی کوئی ایسی نذر مانے، جس کا مقصد اللہ کی رضا کا حصول ہو، تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اسے پوری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، جب تک وہ نذر اسے تھکا نہ دے (یعنی وہ اسے پوری کرنے سے عاجز نہ ہو جائے)۔“