سنن الدارقطني
كتاب الوكالة— وکالہ کا بیان
خَبَرُ الْوَاحِدِ يُوجِبُ الْعَمَلَ باب: خبر واحد عمل کو واجب کر دیتی ہے
نَا نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الأَزْدِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَبَّانَ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ يَشْرَبُونَ مِنْ شَرَابِ تَمْرٍ وَبُسْرٍ ، أَوْ قَالَ : رُطَبٍ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنَ الشَّرَابِ حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ مِنْهُمْ فَمَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " أَلا هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ؟ ، فَقَالُوا : يَا أَنَسُ ، اكْفِ مَا فِي إِنَائِكَ ، وَمَا قَالُوا : حَتَّى نَتَبَيَّنَ ، قَالَ : فَكَفَأْتُهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ : هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ خَبَرَ الْوَاحِدِ يُوجِبُ الْعَمَلَ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ، سیدنا ابی بن کعب اور سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ کر کھجور اور چھوہاروں کی بنی ہوئی شراب پی رہے تھے، میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا، انہوں نے وہ شراب لینا چاہی، تو اسی دوران ایک مسلمان وہاں سے گزرا اور بولا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے؟“ تو ان سب نے کہا: ”اے انس! اپنے برتن میں موجود شراب کو بہا دو۔“ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی، جب ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس شراب کو بہا دیا۔ شیخ ابوعبداللہ یعنی عبیداللہ بن عبدالصمد، یہ فرماتے ہیں: یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خبر واحد عمل کو لازم کر دیتی ہے۔