حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ : هَذَا مَا أَوْصَى فُلانُ بْنُ فُلانٍ ، أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ، وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ ، وَيُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّ كَانُوا مُؤْمِنِينَ ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ اپنی وصیت کے آغاز میں یہ لکھوایا کرتے تھے: یہ وہ وصیت ہے، جو فلاں بن فلاں نے کی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں، قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود سب لوگوں کو زندہ کرے گا۔ پھر وہ اپنے پس ماندگان کو یہ تلقین کرتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور آپس میں صلح سے کام لیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اگر وہ ایمان رکھتے ہیں اور وہ ان کو یہ وصیت کر رہا ہے، جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کی تھی کہ ”اے میرے بیٹو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک دین کو اختیار کر لیا ہے، تو جب تم مرنے لگو، تو مسلمان ہونا۔“