نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 ، قَالَ : اطَّلَعَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَعَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : لا تُخْبِرِي عَائِشَةَ، وَقَالَ لَهَا : إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا سَيَمْلُكَانِ ، أَوْ سَيَلِيَانِ بَعْدِي فَلا تُخْبِرِي عَائِشَةَ ، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَعَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ، قَالَ : أَعْرَضَ عَنْ قَوْلِهِ : إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا يَكُونَانِ بَعْدِي ، كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْشُرَ ذَلِكَ فِي النَّاسِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ”اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے سرگوشی میں کوئی بات کہی۔“ وہ فرماتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس وقت سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ (سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بارے میں عائشہ کو نہ بتانا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا: ”تمہارے والد اور اس کے والد عنقریب حکمران بن جائیں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے بعد حکومت کریں گے، تم عائشہ کو یہ بات نہ بتانا۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتا دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تو سمجھ بات بتا دی اور کچھ بات بیان نہیں کی، انہوں نے اس بارے میں یہ بات بیان کی: ”تمہارے والد اور اس کے والد میرے بعد (حکومت کریں گے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اس لیے ناپسند ہوئی کہ یہ بات لوگوں میں پھیل نہ جائے، اسی لیے آپ نے یہ بات بیان نہیں کی۔