حدیث نمبر: 4292
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ لَقْلُوقٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِرَجُلٍ أَتَى عَلَيْهِ ثَلاثَةٌ ، وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، إِلا أَوْصَى فِيهِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس پر تین دن ایسے گزر جائیں کہ اس کے پاس ایسا مال موجود ہو کہ جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو (اور اس نے وصیت نہ کی ہو)، اسے اس بارے میں وصیت کر دینی چاہیے۔“