حدیث نمبر: 4291
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الدَّرَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، وَيَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ ، إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہو، جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزر جائیں (کہ اس نے وصیت نہ کی ہو)، اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“