حدیث نمبر: 4290
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا مال موجود ہو، جس میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزر جائیں (کہ اس نے وہ وصیت تحریر نہ کی ہو)، اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“