سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي النَّهْيِ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ باب: : جنبی شخص اور حائضہ عورت کے لیے قرآن کی تلاوت کی ممانعت
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ هَانِئٍ ، نا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو مَالِكٍ وَأَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَأَخْبَرَنِي مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، كِلاهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنِّي أَرْضَى لَكَ مَا أَرْضَى لِنَفْسِي ، وَأَكْرَهُ لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي ، لا تَقْرَأِ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ، وَلا أَنْتَ رَاكِعٌ ، وَلا أَنْتَ سَاجِدٌ ، وَلا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ ، وَلا تَدْبَحْ تَدْبِيحَ الْحِمَارِ " .ایک روایت کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے۔ دوسری سند کے مطابق سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”اے علی! میں تمہارے لیے اس بات سے راضی ہوں جس بات سے اپنے لیے راضی ہوں، اور تمہارے لیے اس بات کو ناپسند کرتا ہوں جسے اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں، تم اس وقت قرآن کی تلاوت نہ کرو جب تم جنابت کی حالت میں ہو اور نہ ہی اس وقت کرو جب تم رکوع کی حالت میں ہو اور نہ ہی اس وقت کرو جب سجدے کی حالت میں ہو، اور تم اس وقت نماز ادا نہ کرو جب تم نے بالوں کو باندھ رکھا ہو اور (نماز کے دوران رکوع کی حالت میں) اس طرح نہ جھکو جیسے گدھا اپنے سر کو جھکا دیتا ہے۔“