حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَأَتَاهُ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ عَمٍّ لِي وَأَنَا وَلِيُّهَا أَعْتَقَتْ جَارِيَةً عَنْ دُبُرٍ لَيْسَ لَهَا مَالٌ غَيْرَهَا ، قَالَ زَيْدٌ : " فَلْتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا مَا دَامَتْ حَيَّةً " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.محمد محی الدین
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس انصار کا ایک نوجوان آیا اور اس نے بتایا: میری ایک چچا زاد ہے، جس کا میں ولی ہوں، اس نے مدبر کے طور پر اپنی کنیز کو آزاد کر دیا ہے، اس (چچا زاد) کے پاس اس کنیز کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے، تو سیدنا زید نے فرمایا: جب تک (تمہارا وہ چچا زاد) زندہ ہے، اس وقت تک تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ کہا ہے: یہ حدیث ”غریب“ ہے۔