نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ ، نَا الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ صَالِحٌ بِأَخِيهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَ أَخِي هَذَا ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ أَعْتَقَهُ حِينَ مَلَكْتَهُ " ، الْعَرْزَمِيُّ تَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ الْمَتْرُوكُ ، أَيْضًا هُوَ الْقَائِلُ : كُلَّمَا حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ كَذَبَ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اس کا نام صالح تھا، وہ اپنے بھائی کو لے کر آیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اس بھائی کو آزاد کر دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اس کے مالک ہوئے تھے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے آزاد کر دیا تھا۔“ عزرمی نامی راوی کو عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن سعید القطان، ابن مہدی نے متروک قرار دیا ہے، جبکہ ابونضر نامی راوی محمد بن سائب کلبی متروک ہے، یہ وہی شخص ہے، جس نے یہ کہا تھا کہ جب میں ابوصالح نامی راوی کے حوالے سے کوئی روایت نقل کروں، تو وہ جھوٹ ہو گی۔