حدیث نمبر: 4225
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ " فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ : إِذَا كَانَا بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ يَجِبُ عَلَى الَّذِي أَعْتَقَهُ عِتْقُ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، إِذَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ دَفَعَ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ إِلَى شُرَكَائِهِ ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ " ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : هَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَالأَمَةُ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، جو ایسے غلام یا کنیز کے بارے میں ہے، جو مشترکہ طور پر کچھ لوگوں کی ملکیت ہیں اور ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو جس شخص نے اسے آزاد کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ بقیہ حصے کو بھی آزاد کرے، اگر اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہوتا ہے، جو اس غلام کی قیمت کے برابر ہو، تو وہ اس کی قیمت کی بقیہ رقم اپنے دیگر حصہ داروں کو دے دے گا اور وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد شمار ہو گا۔ ایک راوی نے اس روایت میں کنیز کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب المكاتب / حدیث: 4225
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2491، 2503، 2521، 2522، 2523، 2523 م، 2524، 2525، 2553، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1501، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4315، 4316، 4317، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4712، 4713،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3940، 3946، 3947، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1346، 1347، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2528،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4218، 4219، 4225، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 404، 4537، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 686، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22148، 22149، 22284»
«»