حدیث نمبر: 4222
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ . سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ وَضَبَطَهُ ، وَفَصْلَ بَيْنَ قَوْلِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ.
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد کرنے کو درست قرار دیا اور اسے اس غلام کی بقیہ قیمت بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا۔ قتادہ کہتے ہیں: اگر شخص کے پاس مال موجود نہ ہو، تو اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی، تاہم اس بارے میں اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔ نیشاپوری نے یہ بات بیان کی ہے کہ بہترین روایت وہ ہے، جسے ہمام نے نقل کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب المكاتب / حدیث: 4222
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2492، 2504، 2526، 2527، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1502،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4318، 4319،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3934، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1348، 1348 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4220، 4221، 4222، 4223، 4224، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7586، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1124،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22147»