حدیث نمبر: 4220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، قَالَ : يَضْمَنُ " ، وَافَقَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فَلَمْ يَذْكُرِ الاسْتِسْعَاءَ ، وَشُعْبَةُ وَهِشَامٌ أَحْفَظُ مَنْ رَوَاهُ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَرَوَاهُ هَمَّامٌ فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ ، وَفَصَلَهُ مِنْ كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَأَحْسَبُهُمَا وَهِمَا فِيهِ لِمُخَالَفَةِ شُعْبَةَ ، وَهِشَامٍ ، وَهَمَّامٍ إِيَّاهُمَا .
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو غلام دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، ان میں سے ایک اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’وہ شخص ضامن ہو گا۔‘“ ہشام نامی راوی نے اس کی موافقت کی ہے اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔ شعبہ اور ہشام، قتادہ کے حوالے سے روایات نقل کرنے میں دیگر راویوں سے زیادہ حافظ ہیں۔ ہمام نامی راوی نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ کہا: ”ایسے غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔“ انہوں نے قتادہ کے اس قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے الگ طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ مزدوری کروانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں ان راویوں کو وہم ہوا ہے، کیونکہ یہ روایت شعبہ اور ہشام کی نقل کردہ روایت کے مقابلے میں مختلف ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب المكاتب / حدیث: 4220
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2492، 2504، 2526، 2527، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1502،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4318، 4319،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3934، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1348، 1348 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4220، 4221، 4222، 4223، 4224، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7586، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1124،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22147»