حدیث نمبر: 4218
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَأَعْتَقَ نَصِيبَهُ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ عِتْقَ مَا بَقِيَ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ مِنْ حِصَصِ شُرَكَائِهِ ، يُقَامُ قِيمَةُ عَدْلٍ ، وَيُودِي إِلَى شُرَكَائِهِ قِيمَةَ حِصَصِهِمْ ، وَيَعْتِقُ الْعَبْدَ وَالأَمَةَ إِنْ كَانَ فِي مَالِ الْمُعْتَقِ بِقِيمَةِ حِصَصِ شُرَكَائِهِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کسی غلام یا کنیز میں کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اب اس پر لازم ہے کہ وہ غلام یا کنیز کے بقیہ مالکان کے حصوں میں سے بھی اسے آزاد کر دے، انصاف کے مطابق اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اپنے شراکت داروں کی طرف سے اس کی ادائیگی کر دے گا، جو ان کے حصوں کی قیمت کے مطابق ہو گی، وہ اس غلام یا کنیز کو آزاد کر دے گا، لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب آزاد کرنے والے شخص کے مال میں اتنا مال موجود ہو، جو اس کے شراکت داروں کے حصے کی قیمت کے برابر ہو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب المكاتب / حدیث: 4218
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2491، 2503، 2521، 2522، 2523، 2523 م، 2524، 2525، 2553، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1501، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4315، 4316، 4317، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4712، 4713،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3940، 3946، 3947، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1346، 1347، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2528،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4218، 4219، 4225، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 404، 4537، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 686، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22148، 22149، 22284»
«قال ابن عدي: عبد الرحمن بن يزيد من جملة من يكتب حديثه من الضعفاء ، الكامل في الضعفاء: (5 / 478)»