حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ قَدِمْتُ فَكَاتَبَتْنِي عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَدَّيْتُ إِلَيْهَا عَامَّةَ الْمَالِ ، ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِيَ إِلَيْهَا ، فَقُلْتُ : هَذَا مَالُكِ فَاقْبِضِيهِ ، قَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى أَجِدَهُ مِنْكَ شَهْرًا بِشَهْرٍ وَسَنَةً بِسَنَةٍ ، فَخَرَجْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ارْفَعْهُ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : هَذَا مَالُكِ فِي بَيْتِ الْمَالِ ، وَقَدْ عُتِقَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَإِنْ شِئْتِ فَخِذِي شَهْرًا بِشَهْرٍ ، أَوْ سَنَةً بِسَنَةٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْهُ " .
محمد محی الدین

سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: بنو لیث سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے ذوالمجاز کے بازار سے مجھے سات سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر جب میں آیا، تو اس نے چالیس ہزار درہم کے عوض میں میرے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا، میں نے اس کی اکثر ادائیگی کر دی، جب کچھ ادائیگی باقی رہ گئی اور میں وہ لے کر اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: ”تم اپنی یہ رقم لے لو۔“ تو وہ بولی: ”اللہ کی قسم! میں اسے یوں نہیں لوں گی، بلکہ ہر مہینے لیا کروں گی یا ہر سال لیا کروں گی۔“ میں اسے ساتھ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اسے بیت المال میں جمع کروا دو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو بلوایا اور بولے: ”تمہارا مال بیت المال میں جمع ہے، ابوسعید آزاد ہو گیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے، اگر تم چاہو، تو ہر مہینے اور ہر سال کے حساب سے بیت المال میں سے وصولی کر لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ اسے بھجوایا گیا، تو اس نے وصول کر لیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب المكاتب / حدیث: 4215
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4215»