حدیث نمبر: 4210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُلُّ قَوْمٍ يَتَوَارَثُونَ ، إِلا مَنْ عَمِّي مَوْتُ بَعْضِهِمْ قَبْلَ بَعْضٍ فِي هَدْمٍ ، أَوْ حَرْقٍ ، أَوْ قِتَالٍ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ وُجُوهِ الْمُتَآلَفِ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرِثُ بَعْضًا ، وَلَكِنْ يُورَثُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ ، يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنَ الأَحْيَاءِ ، كَأَنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ عَمَّى مَوْتُهُ مَعَهُ قَرَابَةٌ " .
محمد محی الدین

خارجہ بن زید اپنے والد (زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: پہلے ہر قوم کے لوگ ایک دوسرے کے وارث بن جایا کرتے تھے، ماسوائے اس صورت کے کہ جب کوئی شخص کوئی مکان گرنے یا جل جانے یا جنگ یا کسی اور وجہ سے اندھی موت مر جاتا، تو ان لوگوں کو ایک دوسرے کا وارث نہیں بنایا جاتا تھا، البتہ زندہ لوگوں میں سے ان کے قریبی عزیز ان کا وارث بنا کرتا تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس شخص کے اور اندھی موت مر جانے والے شخص کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب السير / حدیث: 4210
تخریج حدیث «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3087، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12380، 12381، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4210»