حدیث نمبر: 4205
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَرَّ بِحَمْزَةَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقَدْ جُدِعَ وَمُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ ، فَكَفَّنَهُ بِنَمِرَةٍ إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلاهُ ، وَإِذَا خُمِّرَتْ رِجْلاهُ بَدَا رَأْسُهُ ، فَخَمَّرَ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ " ، لَمْ يَقُلْ هَذَا اللَّفْظَ غَيْرُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ : " وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ " ، وَلَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ.
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، ان کے ہونٹ، ناک، کان وغیرہ کو کاٹ دیا گیا تھا اور مثلہ کر دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر صفیہ کی پریشانی نہ ہوتی، تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ میں سے زندہ کرتا۔“ پھر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک چادر کفن کے طور پر دی گئی، جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا، تو ان کے پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے، جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے، تو سر ظاہر ہو جاتا تھا، تو ان کے سر کو ڈھانپ دیا گیا، ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں آج تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔“ روایت کے یہ الفاظ صرف عثمان نامی راوی نے نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔“ یہ الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب السير / حدیث: 4205
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2608، 2609، 2610، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1355، 1356،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3135، 3136، 3137، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1016، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4205، 4206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12494،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11762، 11777، 37611، 37907»
«قال البخاري : حديث أسامة عن الزهري عن أنس غير محفوظ غلط فيه أسامة ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 152)»