حدیث نمبر: 4199
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ الشِّيعِيُّ ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا أَصَابَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ فَظُهِرَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى رَجُلٌ مِنَّا مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ ، فَإِذَا قُسِمَ ثُمَّ ظَهَرُوا عَلَيْهِ فَلا شَيْءَ لَهُ إِنَّمَا هُوَ رَجُلٌ مِنْهُمْ " ، وَقَالَ أَبُو سَهْلٍ : " هُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ بِالثَّمَنِ " ، هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مشرک لوگ مسلمانوں کا جو مال حاصل کر لیتے ہیں اور پھر مسلمان ان لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، پھر ہم میں سے کوئی شخص اپنا مال بعینہ ان کے پاس پاتا ہے، تو وہ اس مال کا کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ حق دار ہو گا، لیکن جب اس مال غنیمت کو تقسیم کر لیا جائے اور پھر مسلمان اس پر قابوپائیں، تو اب اس شخص کو کچھ نہیں ملے گا، وہ ان (مسلمانوں) کا ایک عام فرد تصور ہو گا۔“ ابوسہل نے یہ بات بیان کی ہے کہ قیمت کے بدلے میں اس مال کو حاصل کرنے کا وہ زیادہ حق دار ہو گا، یہ روایت ”مرسل“ ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب السير / حدیث: 4199
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2799، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18322، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4199، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9354، 9359، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34032، 34033»
«قال الدارقطني: هذا مرسل ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 434)»