نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُكْرِمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ أَبُو جَعْفَرٍ التِّرْمِذِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ الزُّبَيْرُ : " نزلت هَذِهِ الآيَةُ فِينَا وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ سورة الأنفال آية 75 ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ آخَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، وَرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَلَمْ نَكُنْ نَشُكُّ أَنَّا نَتَوَارَثُ لَوْ هَلَكَ كَعْبٌ وَلَيْسَ لَهُ مَنْ يَرِثُهُ لَظَنَنْتُ أَنِّي أَرِثُهُ ، وَلَوْ هَلَكْتُ كَذَلِكَ يَرِثُنِي حَتَّى نزلت هَذِهِ الآيَةُ " .ہشام بن عروہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی: ”اور نسبی رشتے دار ایک دوسرے کے وارث بنیں گے (اللہ کی کتاب میں یہی حکم ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مہاجرین اور ایک انصاری کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تھا تو ہمیں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، یعنی اگر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جاتا اور ان کا کوئی وارث نہ ہوتا تو میرا یہ خیال تھا کہ میں ان کا وارث بنتا اور اگر میں مر جاتا تو اسی طرح وہ میرے وارث بنتے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی۔