قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : جَاءَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ ، دُونَ أُمِّ الأَبِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا ، أَوْ قَالَ مَرَّةً : رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ هِيَ لَمْ تَرِثْهَا ، " فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا " .قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ دو دادیاں (یا نانیاں یا دادی اور نانی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادی کی بجائے نانی کو وارث قرار دیا، تو عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں (راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں)، بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ کہا: ”اے سیدنا ابوبکر! اے خلیفہ رسول! آپ نے وراثت اسے دے دی ہے کہ اگر یہ مر جاتی، تو (مرحومہ عورت) اس کی وارث نہ بنتی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں (دادی اور نانی) کو (مرحومہ عورت کا) وارث قرار دیا۔