سنن الدارقطني
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ باب: إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ
حدیث نمبر: 4127
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِيُّ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ دِينَارٍ الْفَارِسِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَكَانُوا يَتَوَارَثُونَ بِذَلِكَ حَتَّى أنزلت وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ سورة الأنفال آية 75 ، فَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا تو وہ لوگ ایک دوسرے کے وارث بھی بنا کرتے تھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”صرف (نسبی) رشتے دار ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“ اس کے بعد نسب کے اعتبار سے لوگ ایک دوسرے کے وارث بننے لگے۔