سنن الدارقطني
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ باب: إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَرَاءِ ، نَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أُتِيَ فِي بَنِي عَمٍّ أَحَدُهُمْ أَخٌ لأُمٍّ ، فَقِيلَ لِعَلِيٍّ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ " أَعْطَى الأَخَ مِنَ الأُمِّ الْمَالَ كُلَّهُ دُونَهُمْ لِقَرَابَتِهِ ، فَقَالَ عَلِيّ : يَرْحَمُ اللَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِنْ كَانَ لَفَقِيهًا لَوْ كُنْتُ أَنَا لأَعْطَيْتُهُ السُّدُسَ ، ثُمَّ أَشْرَكْتُ بَيْنَهُمْ فِيمَا بَقِيَ " .حارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ آیا، جو چچا زاد بھائیوں کے بارے میں تھا، جن میں سے ایک ماں کی طرف سے شریک بھائی بھی تھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے شریک بھائی کو سارا مال ادا کرنے کا حکم دیا ہے، باقی قریبی رشتہ داروں کو اس بارے میں کوئی ادائیگی کرنے کا حکم نہیں دیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، وہ سمجھدار آدمی ہیں، اگر میں ان کی جگہ پر ہوتا، تو میں اسے چھٹا حصہ دیتا اور باقی رہ جانے والا مال ان (دوسرے چچا زاد بھائیوں) میں تقسیم کر دیتا۔“