سنن الدارقطني
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ باب: إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ
حدیث نمبر: 4124
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا الْمُحَارِبِيُّ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، وَوَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : " أَنْتُمْ تَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الدَّيْنَ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ، وَأَعْيَانُ بَنِي الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاتِ " .محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم لوگ قراءت کرتے ہوئے وصیت کا حکم قرض کی ادائیگی سے پہلے پڑھتے ہو، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے: (میت کی) وصیت پوری کیے جانے سے پہلے اس کا قرض ادا کیا جائے گا اور ماں کی طرف سے بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث بنیں گے، جبکہ باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔“