حدیث نمبر: 4110
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا عَفَّانُ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ ؟ ، قَالَ : لَكَ السُّدُسُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ سُدُسٌ آخَرُ، فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ ، فَقَالَ : لَكَ السُّدُسُ الآخَرُ طُعْمَةً " .محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: ”میرے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے، مجھے اس کی وراثت میں سے کیا ملے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں چھٹا حصہ ملے گا۔“ جب وہ واپس چلا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ بھی ملے گا۔“ جب وہ واپس چلا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تمہیں ایک اور چھٹا حصہ بھی اضافی طور پر ملے گا۔“