نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ ، نَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ ، وَابْنَهَا زَيْدًا وَقَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، وَالْتَقَتِ الصَّائِحَتَانِ ، فَلَمْ يُدْرَ أَيُّهُمَا هَلَكَ قَبْلُ ، فَلَمْ تَرِثْهُ وَلَمْ يَرِثْهَا ، وَأَنَّ أَهْلَ صِفِّينَ لَمْ يَتَوَارَثُوا ، وَأَنَّ أَهْلَ الْحَرَّةِ لَمْ يَتَوَارَثُوا " .جعفر صادق اپنے والد (محمد باقر) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام کلثوم اور ان (خاتون) کے صاحبزادے زید (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے)، یہ دونوں ایک ہی دن انتقال کر گئے، ان کے انتقال کا وقت قریب قریب تھا، یہ پتا نہیں چل سکا کہ ان دونوں میں سے کون پہلے انتقال کر گیا تھا؟ تو وہ خاتون اس بچے کی وارث نہیں بنی اور وہ بچہ اس خاتون کا وارث نہیں بنا، اسی طرح اہل صفین بھی ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے، اسی طرح واقعہ حرہ (میں مارے جانے والے لوگ) ایک دوسرے کے وارث نہیں بنے تھے۔