حدیث نمبر: 4093
نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً بِالأَسْوَافِ وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَزُرْنَاهَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَرَشَّتْ لَنَا صُوَرًا فَقَعَدْنَا تَحْتَهُ بَيْنَ نَخْلٍ ، وَذَبَحَتْ لَنَا شَاةً ، وَعَلَّقْتُ لَنَا قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَحَدَّثُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِابْنَتَيْنِ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ ، أَوْ قَالَتْ : سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالا إِلا أَخَذَهُ ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَوَاللَّهِ مَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلا وَلَهُمَا مَالٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ ، فنزلت سُورَةُ النِّسَاءِ وَفِيهَا يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مثل حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْعُوا لِي الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا ، فَقَالَ لِعَمِّهَا : أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ " .
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر تھے یہاں تک کہ اسواف کے مقام پر ہم ایک خاتون کے پاس پہنچے جو خارجہ بن زید کی دادی تھیں۔ ہم اس دن ان کے پاس ٹھہر گئے۔ انہوں نے ہمارے لیے کپڑا بچھایا اور ہم کھجور کے درخت کے نیچے اس پر بیٹھ گئے، اس خاتون نے ہمارے لیے بکری ذبح کروائی، پانی کا مشکیزہ لا کر رکھا۔ اس دوران ہم گفتگو بھی کرتے رہے۔ اسی دوران ایک خاتون اپنی دو بیٹیوں کو لے کر حاضر خدمت ہوئی اور عرض کی: یا رسول اللہ! یہ ثابت بن قیس کی صاحبزادیاں ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سعید بن ربیع کی صاحبزادیاں ہیں جو آپ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔ ان کے چچا نے ان کا مال اور وراثت کا حصہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس نے ان دونوں کے لیے کوئی مال نہیں چھوڑا، سب حاصل کر لیا ہے۔ یا رسول اللہ! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ اللہ کی قسم! جب تک ان دونوں کے پاس مال موجود نہیں ہو گا ان دونوں کی شادی نہیں ہو سکتی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بارے میں فیصلہ دے گا۔“ تو سورہ نساء کی آیت نازل ہوئی جس میں یہ حکم ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری اولاد کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ ایک مذکر کا حصہ دو مونث کے برابر ہو گا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا: ”اس عورت کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور اس کے دوسرے فریق کو بھی لاؤ۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بچیوں کے وصی سے یہ کہا: ”تم ان بچیوں کو دو تہائی حصہ دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو جو باقی بچ جائے وہ تمہیں ملے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الفرائض / حدیث: 4093
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»