حدیث نمبر: 4090
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ : " مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلا لِلْعَصَبَةِ ، لأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ ، فَهَلْ سَمِعَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ثَمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ . وَقَالَ : فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ ، زَادَ ابْنُ جُرَيْجٍ : وَكَانَ قَتْلُهُ خَطَأً .محمد محی الدین
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ دیت صرف عصبہ رشتہ داروں کو ملے گی، کیونکہ یہی لوگ دیت ادا بھی کرتے ہیں۔“ کیا آپ میں سے کسی نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کچھ سنا ہے؟ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے مطابق فیصلہ دیا۔ ابن جریج نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: ”وہ صاحب خطا کے طور پر قتل ہوئے تھے۔“