حدیث نمبر: 4089
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَامَ فَسَأَلَ : " هَلْ أَحَدٌ عَلِمَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا ؟ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ : أَنَا عِنْدِي فِي ذَلِكَ عِلْمٌ ، قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْنَا أَنْ نُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا أَشْيَمَ " ،.
محمد محی الدین

سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، انہوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ میں سے کسی کے پاس اس بارے میں علم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل ہو جانے والے شوہر کی دیت میں عورت کی وراثت کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو؟“ تو اس بات پر سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا تھا: ”میرے پاس اس بارے میں علم ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خط لکھا تھا کہ ہم اشیم ضبابی کی اہلیہ کو ان کے شوہر اشیم کی دیت میں سے حصہ دیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الفرائض / حدیث: 4089
تخریج حدیث «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) 1533، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1039، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 85، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2927، بدون ترقيم، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1415، 2110، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2642، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4089، 4090، 4091، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28123، 28124»