نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْقَلانِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى مُخْتَلِفَتَيْنِ ، قَالَ : وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ عَقْلِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ عَقْلِهَا وَمَالِهَا ، إِلا أَنْ يَقْتُلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ ، فَإِنْ هُوَ قَتَلَهُ عَمْدًا لَمْ تَرِثْ مِنْ مَالِهِ وَلا مِنْ دِيَتِهِ شَيْئًا ، فَإِنْ قَتَلَ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ ، وَلَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ شَيْئًا " ،.عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے ہیں۔“ آپ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے: ”عورت اپنے شوہر کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گی اور وہ مرد بھی اس عورت کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گا، البتہ اگر ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے، تو اگر اس نے اپنے ساتھی کو جان بوجھ کر قتل کیا ہے، تو اس کے مال میں سے وارث نہیں بنے گا اور دیت میں وارث نہیں بنے گا، لیکن اگر مقتول خطا کے طور پر قتل ہوا، تو (دوسرا فریق) اس کے مال میں سے وارث بنے گا، لیکن دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں بنے گا۔“