نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ : لا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ ، وَالْمَرْأَةُ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا وَمَالِهِ ، وَهُوَ يَرِثُ مِنْ دِيَتِهَا وَمَالِهَا ، مَا لَمْ يَقْتُلْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا ، فَإِنْ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَمْدًا ، لَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ وَمَالِهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قَتَلَ صَاحِبَهُ خَطَأً وَرِثَ مِنْ مَالِهِ وَلَمْ تَرِثْ مِنْ دِيَتِهِ " ، مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّائِفِيُّ ثِقَةٌ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”دو مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے، عورت اپنے شوہر کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گی اور وہ مرد بھی اس عورت کی دیت اور اس کے مال میں سے وارث بنے گا، لیکن شرط یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل نہ کیا ہو، اگر ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو، تو وہ عورت اس مرد کی دیت اور مال میں سے کسی چیز کی وارث نہیں بنے گی، اور اگر ان میں سے کسی نے دوسرے کو خطا کے طور پر قتل کیا ہو، تو وہ (اس دوسرے کے) مال میں وارث بنے گا، لیکن دیت میں سے وارث نہیں بنے گا۔“ اس روایت کے راوی محمد بن سعید طائفی ثقہ ہیں۔