حدیث نمبر: 4066
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسِيلُ عَلَيَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ، لا يَدَّعِينَ رَجُلٌ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ ، وَلا يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ مُتَتَابِعَةً ، لا تُنْفِقُ الْمَرْأَةُ شَيْئًا مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلا بِإِذْنِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَلا الطَّعَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ ، وَالدَّيْنَ مَقْضِيٌّ ، وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا ہوا تھا، اور اس کی رال میرے اوپر بہہ رہی تھی، اس موقع پر آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”اللہ نے ہر حق دار کا حق مقرر کیا ہے، اس لیے کسی وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، اولاد صاحب فراش کی ہو گی اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی، کسی شخص کو اس کے باپ کی بجائے کسی اور حوالے سے نہ بلایا جائے گا اور کوئی بھی شخص اپنے آپ کو اپنے آزاد کرنے والے کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب نہ کرے، جو شخص ایسا کرے گا، اس پر اللہ کی لگاتار لعنت ہو گی، عورت اپنے شوہر کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اناج بھی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ تو ہمارا سب سے زیادہ اہم مال ہے۔“ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عاریت کے طور پر دی گئی چیز واپس کرنا ہوتی ہے، قرض کو ادا کیا جائے گا، اور جو شخص ذمہ دار بنے گا، وہ تاوان ادا کرنے کا بھی پابند ہو گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الفرائض / حدیث: 4066
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2144، 2146، 2147، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 5115، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2714، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12666، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4066»
«قال ابن حجر: لا يخلو إسناد كل منها عن مقال لكن مجموعها يقتضي أن للحديث أصلا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (5 / 437)»