سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ باب: : شرمگاہوں کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَنْ يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرنا تھا۔“ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور پھر آپ نے اپنے پورے جسم پر پانی بہالیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ سے ہٹ گئے اور دونوں پاؤں کو دھو لیا۔