سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4049
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نَا أَبِي ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، " عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فَيَبُتُّهَا ، ثُمَّ يَمُوتُ فِي عِدَّتِهَا ؟ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ طَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، امْرَأَتَهُ تُمَاضِرَ بِنْتَ الأَصْبَغِ الْكَلْبِيَّةَ ، ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا ، فَوَرِثَهَا عُثْمَانُ " .محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو اپنی بیوی کو طلاق بائنہ دے دیتا ہے، پھر اس عورت کی عدت کے دوران ہی اسی شخص کا انتقال ہو جاتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بتایا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اپنی اہلیہ تماضر بنت اصبغ کلبی کو طلاق دے دی، پھر اس خاتون کی عدت کے دوران ہی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو وارث قرار دیا تھا۔