سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4048
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ طَلاقَ زَوْجِهَا فَجَاءَتْ عَلَى ذَلِكَ بِشَاهِدٍ عَدْلٍ اسْتُحْلِفَ زَوْجُهَا ، فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَتْ شَهَادَةُ الشَّاهِدِ ، وَإِنْ نَكَلَ فَنُكُولُهُ بِمَنْزِلَةِ شَاهِدٍ آخَرَ ، وَجَازَ طَلاقُهُ " .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب عورت یہ دعویٰ کرے کہ اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہے اور وہ اس پر ایک عادل گواہ بھی پیش کر دے، تو شوہر سے حلف لیا جائے گا، اگر وہ حلف اٹھا لیتا ہے، تو گواہ کی گواہی کالعدم قرار دی جائے گی اور اگر وہ (حلف اٹھانے سے) انکار کر دیتا ہے، تو اس کا انکار دوسرے گواہ کا قائم مقام ہو گا اور طلاق جائز (یعنی واقع) شمار ہو گی۔“