سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4047
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، نَا أَبُو النُّعْمَانِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالا : نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ، وَلا عِدَّةَ عَلَيْهَا ، وَتَزَوَّجْ إِنْ شَاءَتْ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں: میں نے سعید بن جبیر سے دریافت کیا: کیا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ فرماتے تھے: ”جب چار ماہ گزر جائیں، تو یہ ایک بائنہ طلاق شمار ہو گی اور عورت پر عدت لازم نہیں ہو گی، اگر وہ چاہے تو (فوراً بعد دوسری) شادی کر سکتی ہے۔“ تو سعید نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“