حدیث نمبر: 4039
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، ،أَنَّهُ قَالَ : سَأَلْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الرَّجُلِ يُولِي ، فَقَالُوا : " لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ حَتَّى يَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَيُوقَفُ فَإِنْ فَاءَ ، وَإِلا طَلَّقَ " .
محمد محی الدین

سہیل بن ابوصالح اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”میں نے 12 صحابہ کرام سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جو ایلاء کر لیتا ہے، تو ان حضرات نے یہی جواب دیا: اس پر اس وقت تک کوئی چیز عائد نہیں ہو گی، جب تک چار ماہ نہیں گزر جاتے، پھر (مرد کی مرضی) پر موقوف ہو گا، اگر وہ رجوع کر لے تو (ٹھیک)، ورنہ طلاق دے دے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4039
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1915، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15307، 15308، 15309، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4039، 4040، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18885»