سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَوْمًا ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، " إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلاثًا ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عَصَيْتَ رَبَّكَ وَحُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ ، وَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا ، تُطَلِّقُ فَتَتَحَمَّقُ ، ثُمَّ تَقُولُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1 ، فِي قَبْلِ عِدَّتِهِنَّ " ، قَالَ : وَنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَجْلِسِ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَمِعَ مِنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ مُجَاهِدًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .مجاہد بیان کرتے ہیں: ایک دن میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعباس! میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی۔ تم اللہ سے ڈرتے نہیں ورنہ اس نے تمہارے لیے کوئی گنجائش بنا دیتی۔ تم نے طلاق دیتے وقت حماقت کا مظاہرہ کیا اور اب تم کہتے ہو اے ابوعباس۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت (کے حساب سے) دو یعنی ان کی عدت سے پہلے دو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔