حدیث نمبر: 4028
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، قَالا : نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " كَانَ الطَّلاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ : الثَّلاثَةُ وَاحِدَةٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں، تین (طلاقیں) ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں کو جس بارے میں سہولت دی گئی تھی، انہوں نے اس معاملے میں جلد بازی کرنا شروع کر دی ہے، اگر ہم ان (تین طلاقوں کو تین کی صورت میں) جاری رہنے دیں (تو یہی مناسب ہو گا)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (تین طلاقوں کو تین کی شکل میں) جاری رہنے دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4028
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1472،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2808، 2809، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3406 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5569، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2199، 2200، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4019، 4028، 4029، 4030، 4031، 4032، 4033، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2922»
«»