حدیث نمبر: 4019
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " هَاتِ مِنْ هَنِيئَاتِكَ وَمِنْ صَدْرِكَ وَمِمَّا جَمَعْتَ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو الصَّهْبَاءِ : هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الثَّلاثَةَ كَانَتْ تَرُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْوَاحِدَةِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ فَقَدْ كَانَتِ الثَّلاثَةُ تَرُدُّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلافَةِ عُمَرَ ، إِلَى الْوَاحِدَةِ ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ تَتَابَعَ النَّاسُ فِي الطَّلاقِ فَأَمْضَاهُنَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلاثًا " .
محمد محی الدین

طاؤس بیان کرتے ہیں: ابوصہباء سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ”اپنا موقف (یا سوال) اور جو کچھ تمہارے ذہن میں ہے اور جو کچھ تم نے اکٹھا کیا ہے، اسے پیش کرو۔“ تو ابوصہباء نے ان سے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ”جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں طلاق کے مقدمات زیادہ آنے لگے، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں تین قرار دینا (شروع کر دیا)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 4019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1472،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2808، 2809، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3406 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5569، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2199، 2200، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4019، 4028، 4029، 4030، 4031، 4032، 4033، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2922»
«لم يتابع عليه طاوس قال جمهور العلماء أن حديث طاوس في قصة أبي الصهباء لا يصح معناه ، الاستذكار الجامع لمذاهب فقهاء الأمصار وعلماء الأقطار فيما تضمنه الموطأ من معاني الرأي والآثار: (17 / 250)»