سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّ أَبِيهِ رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ ، " أَنَّهُ أَسْلَمَ ، وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ ، وَكَانَ لَهُ مِنْهَا ابْنَةٌ تشبه بِالْفَطِيمِ ، فَخَاصَمَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ضَعَاهَا بَيْنَكُمَا ، ثُمَّ ادْعُوَاهَا ، فَفَعَلا فَمَالَتْ إِلَى أُمِّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ اهْدِهَا، فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا " .سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے: انہوں نے اسلام قبول کیا، لیکن ان کی اہلیہ نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان کی ایک چھوٹی بچی تھی، جو دودھ چھڑانے کی عمر تک پہنچ چکی تھی، وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے تم اپنے درمیان رکھو، اور پھر تم دونوں اسے بلاؤ۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو وہ بچی اپنی والدہ کی طرف مائل ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اسے ہدایت نصیب کر۔“ تو وہ بچی اپنے والد کی طرف مائل ہو گئی، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ نے اسے حاصل کر لیا۔